کانپور، 20؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)اترپردیش میں کانپور سے تقریباََ 60کلو میٹر دور پکھرایا میں اندور سے پٹنہ جا رہی گر کر تباہ ہوئی اندور،پٹنہ ایکسپریس میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 115ہو گئی ہے۔یوپی کے ڈی جی پی نے ٹویٹ کر کے اس بات کی معلومات دی ہے۔مہلوکین کی تعدادمیں اضافہ کااندیشہ ہے ۔جبکہ اب تک 76لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں اور 150لوگوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔پٹری میں دراڑ کے خدشات کے چلتے ٹرین کے اترنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔حادثے کے بعد کچھ کوچ مکمل طورپرملبے میں تبدیل ہوگئے ہیں۔جائے حادثہ پر موجود فوج اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں امدادی کام میں لگی ہیں۔فی الحال وزیر اعظم ریلیف فنڈ، ریلوے، اتر پردیش،بہار اور مدھیہ پردیش حکومتوں نے مرنے والوں اور زخمیوں کیلئے معاوضے کااعلان کیاہے۔ریلوے کے وزیر سریش پربھو نے متاثرین کو معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو3.5ملین روپے کا معاوضہ دینے کا اعلان کیاہے۔حادثے میں شدید زخمی مسافروں کو 50ہزار جبکہ معمولی طور پر زخمی لوگوں کو 25ہزار روپے دیے جائیں گے۔دوسری طرف یوپی حکومت نے مرنے والوں کے خاندانوں کو 5لاکھ روپے،شدیدزخمیوں کو 50-50ہزار جبکہ معمولی زخمیوں کو 25-25ہزار روپے دینے کا اعلان کیاہے۔پی ایم مودی نے بھی متاثرین کو معاوضے کا اعلان کیاہے۔ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو 2-2لاکھ روپے جبکہ شدید زخمیوں کو50-50روپے دیے جائیں گے۔یہ رقم ریلوے کی جانب سے دیے جا رہے معاوضہ سے الگ ہوگی۔مدھیہ پردیش حکومت نے مرنے والوں کے اہل خانہ کو 2-2لاکھ روپے جبکہ شدید زخمی مسافروں کو 50-50ہزار روپے کے معاوضے کااعلان کیاہے۔ٹرین اندور سے پٹنہ جا رہی تھی۔کئی مسافر اب بھی بوگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں محفوظ نکالنے کا کام تیزی سے چل رہا ہے۔ریلوے کے وزیرمملکت منوج سنہا ہالاج کا جائزہ لینے کے لئے جائے حادثہ کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور بورڈ کے ارکان کو بھی جائے حادثہ کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔وزیر اعظم نریندرمودی نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں انہوں نے ریلوے کے وزیر سریش پربھو سے بات کی ہے،جو اس پر اپنی نظر بنائے ہوئے ہیں۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے حادثے پر افسوس کااظہارکرتے ہوئے ٹویٹ کیاہے۔ریلوے کے وزیر سریش پربھو نے ٹوئٹر پر بتایا کہ موقع پر امدادی کام چل رہاہے۔میڈیکل اور ضروری مدد بھیج دی گئی ہے اور معاملے کی تحقیقات کا حکم دیے گئے ہیں۔